PRC Pakistan
Book a Session
← Back to Learning Hub Family

By Mariam Khan · PRC Pakistan · 5 min read

Hard Times

Hard times

ہم سے ایک سوال کیا گیا تھا، جو کچھ یوں تھا

"Why our children are not taught to handle hard times specially after marriage?"

یعنی ہمارے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا اور انہیں ایسے حالات کو ہینڈل کرنا کیوں نہیں سکھایا جاتا، خاص طور پر شادی کے بعد کے تناظر میں؟

اس سوال کا جواب کافی لمبا ہوجائے گا، لیکن کوشش کرتے ہیں کہ مختصر سی بات میں کچھ پوائنٹس ڈسکس ہو جائیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ مشکلات کا سامنا کرنا سیکھنے کے لیے جن لائف سکلز کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم و بیش ہر عمر کے لیے ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔

اب یہ سیکھانے میں کیوں کوتاہی ہو رہی ہے؟؟؟

آسان جواب تو یہ ہے ہم اپنے بچوں کو ایموشنلی انٹیلی جنس سیکھانے پر کچھ نہیں کر رہے۔

بہت سے گھروں میں ہم اپنے بچوں کو یہ نہیں بتانا چاہتے کہ ہمیں یعنی انکے والدین کو مسائل کا سامنا ہے، بلکہ سب اچھا ہے، کچھ مشکل نہیں ہے، زندگی یکساں طور پر حسین ہے کا تاثر دیا جاتا ہے۔

کچھ گھروں میں اگر مشکلات، لڑائی جھگڑے یا بحث و تکرار بچوں کے سامنے ہونا معمول ہوتا ہے مگر اس کا حل عموماً بند کمروں میں، واٹسایپ میسجز میں اور طویل خاموشی کے ذریعے ہو رہا ہوتا ہے۔

تو یہاں ہمارا بچہ کیا سیکھ رہا ہے

  • ١. شادی شدہ زندگی میں مسائل ہوتے ہی نہیں ہیں
  • ٢. مشکلات ہوں تو انکا کوئی حل نہیں ہے

پھر بچے کے ساتھ ہمارے تعلقات میں

کچھ گھروں میں والدین بچوں کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرتے ہیں، انکی چند منٹ کی بوریت بھی والدین کے اوسان خطا کر دیتی ہے، بچوں کے آپس میں اختلافات کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے ریفری کے فرائض انجام دیے جاتے ہیں۔

کچھ گھروں میں والدین بچوں کو مؤدب بنانے، ڈسپلن پر رکھنے اور فرمانبردار بنانے میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ people pleaser تیار کر لیے جاتے ہیں۔

کچھ گھروں میں والدین اپنی passive aggressive پرسنلیٹی کی وجہ سے اپنے ارد گرد والوں کو جی جی کرتے رہتے ہیں اور بچوں کی موقع بے موقع دھنائی کرتے رہتے ہیں۔

تو یہاں ہمارا بچہ کیا سیکھ رہا ہے

  • ١. میں اس قدر اہم ہوں کے کائنات کے تمام سیارے بھی میرے گرد چکر لگا رہے ہیں، مجھے عزت، قربت، محبت کے لیے دو رویہ ٹریفک کی قطعی ضرورت نہیں، بس مجھے کیا مل رہا ہے پر نظر رہے۔
  • ٢. لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کام کیے جاتے ہیں، دوسرے لوگ اگر اس خوشی کا اظہار نہیں کرتے تو ایسے میں انکی پرفارمنس یا تو انتہائی زیادہ اور یا بہت کم ہو جاتی ہے، دوسرا یہ کہ مؤثر انداز میں انکار کرنا، اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار کرنا، اپنے احساسات کو قبول کرنا اور ان پر کام کرنا اس تربیت کا حصہ کبھی رہا ہی نہیں۔
  • ٣. یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کسی دوسرے پر ہر قسم کا غصہ نکالنا جائز ہے کیونکہ کسی اور جگہ سے ملنے والی پریشانیوں نے ہمیں اتنا خود ترس بنا دیا ہوتا ہے کہ اپنا غصہ بھی غلط نہیں لگتا۔
Share this article: Facebook Twitter WhatsApp
Ask about this article on WhatsApp