PRC Pakistan
Book a Session
← Back to Learning Hub Society

By Mariam Khan · PRC Pakistan · 3 min read

Domino Effect

Domino effect

فی الوقت ہمارا معاشرہ تکلیف دہ واقعات کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے...

عزت محفوظ نہیں

زندگی کی وقعت نہیں

سمجھ سے باہر ہے کہ یہ سب کیوں، اور کیسے ہوئے چلا جا رہا ہے...

ایک واقعہ ہوتا ہے، اور پورا سوشل میڈیا جلاؤ گھیراؤ کے مشن میں نکل پڑتا ہے، کچھ ایک طرف تیر چلاتے ہیں، کچھ دوسری سمت والوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، پھر دو دھڑے آپس میں الفاظ اور پوسٹس کی شکل میں گتھم گتھا ہوتے ہیں....

حکومت کو دھائی دی جاتی ہے،

معاشرے کو تنگ نظر کہا جاتا ہے،

تربیت کا فقدان زیر بحث آتا ہے،

جنسی فرسٹریشن کیوں ہے کہ سوال ہوتے ہیں،

مرد حوس کا پجاری اور معاشرے کا ناسور کے نعرے لگتے ہیں،

عورت ہونا موردِ الزام بنتا ہے، بلکہ ایسی عورت ہونا اصل وجہ بتائی جاتی ہے۔

بس چند دنوں کے بعد، نیا واقعہ دل دہلاتا ہے — کیا ہوا، کہاں ہوا، کس نے کیا، ویڈیو بھیجنا ذرا — سے پھر دوبارہ وہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔

دو باتیں ہیں، جن کی طرف نشاندہی کرنا چاہوں گی۔ پہلی یہ کہ ایسے واقعات بہت تکلیف دہ ہیں، پر یہ واقعات ہمیں بحیثیت قوم بے حس کرتے جارہے ہیں، اگلا واقعہ پچھلے سے زیادہ بڑھ کر ہوتا ہے تو شور مچتا ہے، ورنہ افسوس سا کرکے آگے چل پڑتے ہیں، جیسے انگریزی فلموں میں zombies چل رہے ہوتے ہیں، بے حس زندہ لاشیں۔

دوسرا یہ کہ یہ واقعات جو اب نظر آ رہے ہیں یہ ایک domino effect کا نتیجہ ہیں، جو شاید بہت سالوں پہلے یا شاید نسلوں پہلے trigger ہوئے، اس لیے کسی ایک طرف منہ کرکے مجرم نہیں ملتا، کڑی سی کڑی جڑتی جاتی ہے، دلدل گہری ہوتی جاتی ہے۔

کیا ہم اس domino effect کو روک سکتے ہیں؟ کیونکہ abuser اور victim دونوں جو کسی ڈرامہ کے آخری سین کے دو کردار تو ہوتے ہیں مگر دراصل یہ دونوں ہی بہت سے عوامل کے پراڈکٹ ہوتے ہیں، ہم ان سے ہمدردی یا انکو لعن طعن تو کرسکتے ہیں مگر انکے پیچھے چھپے عوامل کو نہیں دیکھتے اور یہ عوامل پھر کسی نئے abuser اور victim کو بنانے چل پڑتے ہیں۔

یہ عوامل بدلنے پڑیں گے، ان واقعات سے اوپر اٹھ کر، فنگر pointing کے بغیر، سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کہاں غلطی ہوگئی ہے، کونسی values ہاتھ سے نکل چکی ہیں، کونسا حرام کا نوالہ روح کا حصہ بنا لیا ہے.... سب سے روکنا ہوگا... دوسروں کو نہیں... بلکہ خود کو.... اس domino effect کو اپنی ذات سے روکنا ہے۔

Share this article: Facebook Twitter WhatsApp
Ask about this article on WhatsApp